بنگلورو،15؍مارچ (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ کے نام نہاد ’فیصلے ‘کے بعد ریاست کے ایک کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے ۔
ہائی کورٹ کے مطابق حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، نیز اسکول یونیفارم پہننے لازمی ہے ، کے خلاف طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ یہ واقعہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد منظر عام پر آیا۔
خبر کے مطابق کرناٹک کے یادگیر کے سورا پورہ تعلقہ میں واقع کیمباوی گورنمنٹ کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے امتحان ہال سے باہر آگئیں ۔ یہ لڑکیاں حجاب پہن کر کالج میں امتحان میں شریک ہوئی تھیں۔ امتحان منگل کی صبح 10 بجے شروع ہوا تھا۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ کالج کی پرنسپل شکنتلا نے ان طالبات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کو کہا، لیکن وہ نہیں مانیں اور امتحان گاہ سے باہر آگئیں۔ پرنسپل کے مطابق تقریباً 35 طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے۔
مذکورہ طالبات نے کہا ہے کہ وہ اپنے والدین سے بات چیت کے بعد فیصلہ کریں گی کہ آیا وہ بغیر حجاب کے کلاس میں جائیں گی یا نہیں۔ایک طالبہ نے یہ بھی کہا کہ ہم حجاب پہن کر امتحان دیں گے اور اگر اسے ہٹانے کو کہا گیا توپھر ہم بصورت دیگر امتحان کا بائیکاٹ کریں گے ۔
کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے منگل کو حجاب کیس میں ایک اہم فیصلہ سنایا۔ بنچ کے مطابق حجاب پہننا اسلام کے لازمی اصولوں میں سے نہیں ہے ، یونیفارم کا استعمال لازمی ہے ، اور طالبات اس کی مخالفت نہیں کر سکتیں۔حجاب کا تنازع گزشتہ ماہ مزید گہرا ہوگیا۔ اس کو لے کر کرناٹک کے کئی شہروں اور قصبوں میں کشیدگی بھی پھیل گئی تھی۔ بالآخر معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا اور اب یہ’ فیصلہ‘ آیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ حجاب اسلام کے لازمی اصولوں یا احکامات میں سے نہیں ہے ۔
واضح ہو کہ حجاب یا پردہ اسلامی قانون کے مطابق جزولازم امر ہے ، حجاب کے بارے میں نص قطعی موجود ہے ، تاہم فیصلے کے بعد بھی یہ تنازعہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، کچھ تنظیموں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔